“The fervor of the tongue causes the soul's consuming fire;Each candle here, for witness, is entirely a finger.”
زباں کی تیزی جان کے جلنے کا سبب ہے۔ یہاں ہر شمع گواہی کے لیے پوری طرح انگلی ہے۔
یہ شعر ہمیں سمجھاتا ہے کہ ہماری زبان کی تیزی، ہمارے کہے ہوئے الفاظ ہی ہماری روح کے جلنے کی وجہ بنتے ہیں. جیسے کسی موم بتی کی لو اس کے پگھلنے اور ختم ہونے کی گواہی دیتی انگلی سی لگتی ہے، ویسے ہی ہمارے الفاظ بھی ہمارے اندر کے درد اور تڑپ کا سبب بنتے ہیں. شاعر یہاں یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ بولنے کی قیمت اکثر بہت بھاری ہوتی ہے، اور ہم خود ہی اپنی تکلیفوں کے گواہ بنتے ہیں.
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
