“Wherever I tread, all fingers rise to point;The whole world has turned from me, yet still, that finger holds sway.”
میں جہاں بھی جاتا ہوں، ہر کوئی مجھ پر انگلیاں اٹھاتا ہے۔ دنیا نے مجھ سے منہ پھیر لیا ہے، پھر بھی انگلیاں اٹھاتی رہتی ہے۔
اس شعر میں شاعر فرماتے ہیں کہ میں جدھر بھی جاتا ہوں، سب کی انگلیاں میری طرف اٹھ جاتی ہیں۔ یہ انگلیاں شاید الزام لگانے کی ہیں یا پھر بس مجھے غور سے دیکھنے کی ہیں۔ اور کمال دیکھیے کہ جب پوری دنیا نے میرا ساتھ چھوڑ دیا ہے، مجھ سے اپنا ہاتھ کھینچ لیا ہے، تب بھی وہ انگلیاں میرا پیچھا نہیں چھوڑتیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے تنہائی میں بھی مجھے ہر طرف سے دیکھا جا رہا ہے اور میری ہر حرکت پر نظر رکھی جا رہی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
