کس رتبہ میں باریکی و نرمی ہے کہ جوں گل آتی نہیں پنجہ میں بس اس کے نظر انگشت

“In what measure lies such subtle grace and tender feel, that like a flower,”

— مرزا غالب
معنی

اس میں کتنی نزاکت اور نرمی ہے کہ یہ پھول کی طرح ہاتھ میں نہیں آتی، بلکہ انگلی بس اسے دیکھ ہی پاتی ہے۔

تشریح

یہ شعر کسی چیز کی بے مثال نزاکت اور نرمی کو بیان کرتا ہے، جو اتنی لطیف ہے کہ پھول کی طرح صرف آنکھوں سے ہی اس کا دیدار ممکن ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ اُس کی نزاکت ایسی ہے کہ اُسے ہاتھ سے تھامنا ممکن نہیں، بلکہ ہاتھ کی گرفت اُس کے لیے بہت کٹھور محسوس ہوتی ہے۔ ایسی نفیس خوبصورتی کو صرف ہماری نگاہیں ہی چھو سکتی ہیں اور اُس کی گہرائی کو محسوس کر سکتی ہیں، جسے جسمانی لمس برداشت نہیں کر سکتا۔

مشکل الفاظ
रुत्बा— Status, rank, dignity
बारीकी— Fineness, subtlety, intricacy
जूँ— Like, as, just as
अंगुश्त— Finger

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوت
ہندی معنی
انگریزی معنی
ہندی تشریح
انگریزی تشریح
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.