“In what measure lies such subtle grace and tender feel, that like a flower,”
اس میں کتنی نزاکت اور نرمی ہے کہ یہ پھول کی طرح ہاتھ میں نہیں آتی، بلکہ انگلی بس اسے دیکھ ہی پاتی ہے۔
یہ شعر کسی چیز کی بے مثال نزاکت اور نرمی کو بیان کرتا ہے، جو اتنی لطیف ہے کہ پھول کی طرح صرف آنکھوں سے ہی اس کا دیدار ممکن ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ اُس کی نزاکت ایسی ہے کہ اُسے ہاتھ سے تھامنا ممکن نہیں، بلکہ ہاتھ کی گرفت اُس کے لیے بہت کٹھور محسوس ہوتی ہے۔ ایسی نفیس خوبصورتی کو صرف ہماری نگاہیں ہی چھو سکتی ہیں اور اُس کی گہرائی کو محسوس کر سکتی ہیں، جسے جسمانی لمس برداشت نہیں کر سکتا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
