मिज़्गाँ की मोहब्बत में जो अंगुश्त-नुमा हूँ
लगती है मुझे तीर के मानिंद हर अंगुश्त
“If for her lashes' love, I become a public shame,Each finger feels to me like an arrow's cruel aim.”
— مرزا غالب
معنی
میں اس کی پلکوں کی محبت میں جو لوگوں کی انگلیوں کا نشانہ بنا ہوں، تو مجھے ہر انگلی تیر کی طرح لگتی ہے۔
تشریح
اس شعر میں شاعر محبوب کی پلکوں (مژگاں) کی محبت کا ذکر کر رہے ہیں، جو ان کے دل میں گہرائی سے بسی ہے۔ جب یہ عشق اتنا آشکار ہو جاتا ہے کہ لوگ انگلیاں اٹھانے لگتے ہیں اور شاعر انگشت نما بن جاتا ہے، تو انہیں بہت تکلیف ہوتی ہے۔ ہر اٹھنے والی انگلی شاعر کو تیر کی مانند محسوس ہوتی ہے جو سیدھا دل پر جا لگتی ہے۔
مشکل الفاظ
मिज़्गाँ— Eyelashes
अंगुश्त-नुमा— Pointed at by fingers, famous, notorious, subject of public talk
मानिंद— Like, similar to, resembling
अंगुश्त— Finger
