غزل

تیری صورت کو دیکھتا ہوں میں

تیری صورت کو دیکھتا ہوں میں
داغ دہلوی· Ghazal· 11 shers· radif: को देखता हूँ मैं

اس غزل میں شاعر اپنے محبوب کے حسن و جمال میں قدرتِ الٰہی کا عکس دیکھتا ہے۔ اس کلام میں عشق کے رومانی و روحانی احساسات کے ساتھ ناصح کے حوالے سے ایک لطیف طنز اور ظرافت کا رنگ بھی نمایاں ہے۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
तेरी सूरत को देखता हूँ मैं उस की क़ुदरत को देखता हूँ मैं
تیری صورت کو دیکھتا ہوں میں اس کی قدرت کو دیکھتا ہوں میں
میں تمہارے چہرے کو دیکھتا ہوں اور اس میں خدا کی قدرت کا جلوہ دیکھتا ہوں۔
2
जब हुई सुब्ह आ गए नासेह उन्हीं हज़रत को देखता हूँ मैं
جب ہوئی صبح آ گئے ناصح انہیں حضرت کو دیکھتا ہوں میں
جیسے ہی صبح ہوئی نصیحت کرنے والے صاحب تشریف لے آئے؛ اب میں بس انہی حضرت کو دیکھ رہا ہوں۔
3
वो मुसीबत सुनी नहीं जाती जिस मुसीबत को देखता हूँ मैं
وہ مصیبت سنی نہیں جاتی جس مصیبت کو دیکھتا ہوں میں
جس مصیبت کو میں خود دیکھ رہا ہوں، وہ ایسی ہے کہ اسے سننا بھی برداشت نہیں ہوتا۔
4
देखने आए हैं जो मेरी नब्ज़ उन की सूरत को देखता हूँ मैं
دیکھنے آئے ہیں جو میری نبض ان کی صورت کو دیکھتا ہوں میں
جو لوگ میری نبض دیکھنے آئے ہیں، میں صرف ان کے چہرے کو دیکھ رہا ہوں۔
5
मौत मुझ को दिखाई देती है जब तबीअत को देखता हूँ मैं
موت مجھ کو دکھائی دیتی ہے جب طبیعت کو دیکھتا ہوں میں
جب بھی میں اپنی حالت یا طبیعت کو دیکھتا ہوں تو مجھے صرف موت ہی نظر آتی ہے۔
6
शब-ए-फ़ुर्क़त उठा उठा कर सर सुब्ह-ए-इशरत को देखता हूँ मैं
شب فرقت اٹھا اٹھا کر سر صبح عشرت کو دیکھتا ہوں میں
جدائی کی رات میں، میں بار بار سر اٹھا کر خوشی اور مسرت کی صبح کو دیکھتا ہوں۔
7
दूर बैठा हुआ सर-ए-महफ़िल रंग-ए-सोहबत को देखता हूँ मैं
دور بیٹھا ہوا سر محفل رنگ صحبت کو دیکھتا ہوں میں
میں محفل میں دور بیٹھا ہوا صرف مجلس اور صحبت کے رنگ ڈھنگ کو دیکھ رہا ہوں۔
8
हर मुसीबत है बे-मज़ा शब-ए-ग़म आफ़त आफ़त को देखता हूँ मैं
ہر مصیبت ہے بے مزا شب غم آفت آفت کو دیکھتا ہوں میں
غم کی اس رات میں ہر مصیبت بے مزہ ہو چکی ہے، اور میں بس ایک آفت کو دوسری آفت کی طرف دیکھتے ہوئے پا رہا ہوں۔
9
न मोहब्बत को जानते हो तुम न मुरव्वत को देखता हूँ मैं
نہ محبت کو جانتے ہو تم نہ مروت کو دیکھتا ہوں میں
تم نہ تو محبت کو سمجھتے ہو اور نہ ہی مجھے تم میں کوئی لحاظ یا مروت نظر آتی ہے۔
10
कोई दुश्मन को यूँ न देखेगा जैसे क़िस्मत को देखता हूँ मैं
کوئی دشمن کو یوں نہ دیکھے گا جیسے قسمت کو دیکھتا ہوں میں
کوئی اپنے دشمن کو بھی اس نظر سے نہیں دیکھے گا، جس طرح میں اپنی قسمت کو دیکھتا ہوں۔
11
हश्र में 'दाग़' कोई दोस्त नहीं सारी ख़िल्क़त को देखता हूँ मैं
حشر میں داغؔ کوئی دوست نہیں ساری خلقت کو دیکھتا ہوں میں
قیامت کے دن، اے داغؔ، کوئی بھی دوست نظر نہیں آتا؛ میں ساری مخلوق کو دیکھ رہا ہوں لیکن کوئی اپنا دکھائی نہیں دیتا۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.