حشر میں داغؔ کوئی دوست نہیں — داغ دہلوی

حشر میں داغؔ کوئی دوست نہیں ساری خلقت کو دیکھتا ہوں میں

“On the Day of Reckoning, O Dagh, no friend stands by my side; I gaze upon all of creation, searching far and wide.”

— داغ دہلوی

معنی

قیامت کے دن، اے داغؔ، کوئی بھی دوست نظر نہیں آتا؛ میں ساری مخلوق کو دیکھ رہا ہوں لیکن کوئی اپنا دکھائی نہیں دیتا۔

تشریح

داغؔ نے اس شعر میں روزِ حشر کا ایک نہایت پُراثر منظر کھینچا ہے، جہاں انسانوں کا ایک بے پناہ ہجوم تو ہے مگر ہر شخص فقط اپنی جان بچانے کی فکر میں ہے۔ شاعر اس ساری خلقت میں کسی غمگسار یا دوست کو تلاش کرتا ہے لیکن اسے دور دور تک کوئی سہارا نظر نہیں آتا۔ یہ شعر دنیاوی تعلقات کی بے ثباتی اور اس آخری سچائی کو بڑی سادگی سے بیان کرتا ہے کہ حتمی آزمائش میں انسان بالکل تنہا ہوتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.

← Prev11 / 11