کوئی دشمن کو یوں نہ دیکھے گا — داغ دہلوی
“No one would ever look upon an enemy the way / I look upon my own destiny.”
معنی
کوئی اپنے دشمن کو بھی اس نظر سے نہیں دیکھے گا، جس طرح میں اپنی قسمت کو دیکھتا ہوں۔
تشریح
شاعر اپنی تقدیر کے ہاتھوں اس قدر دل برداشتہ ہے کہ اس نے قسمت ہی کو اپنا سب سے بڑا حریف سمجھ لیا ہے۔ عموماً انسان دشمن کو خشمگیں اور بے اعتباری کی نگاہ سے دیکھتا ہے، مگر یہاں شاعر کا اپنی تقدیر کو دیکھنے کا انداز دشمن پر پڑنے والی نگاہ سے بھی کہیں زیادہ تلخ اور پردرد ہے۔ یہ شعر اس گہری بے بسی اور محرومی کی تصویر ہے جہاں انسان کو لگتا ہے کہ گردشِ دوراں نے اس پر دشمن سے بھی بڑھ کر ستم ڈھائے ہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
