دیکھنے آئے ہیں جو میری نبض — داغ دہلوی
“They who have come to feel my beating pulse, / Upon their face, entranced, I fix my gaze.”
معنی
جو لوگ میری نبض دیکھنے آئے ہیں، میں صرف ان کے چہرے کو دیکھ رہا ہوں۔
تشریح
اس شعر میں عشق کی ایک بڑی دلکش اور معصوم کیفیت بیان کی گئی ہے، جہاں طبیب یا محبوب عاشق کی بیماری کا حال جاننے کے لیے اس کی نبض تھامے بیٹھا ہے۔ مگر عاشق اپنی دوا اور شفا سے بے نیاز ہو کر بس مسیحا کے خوبصورت چہرے کو تکے جا رہا ہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ نبض کی یہ بے تابی اسی چہرے کے دیدار کی بدولت ہے؛ گویا جو دل کے روگ کا سبب ہے، وہی معالج بن کر سامنے کھڑا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
