وہ مصیبت سنی نہیں جاتی — داغ دہلوی
وہ مصیبت سنی نہیں جاتی
جس مصیبت کو دیکھتا ہوں میں
“That affliction cannot even be heard told, / The very calamity that my eyes behold.”
— داغ دہلوی
معنی
جس مصیبت کو میں خود دیکھ رہا ہوں، وہ ایسی ہے کہ اسے سننا بھی برداشت نہیں ہوتا۔
تشریح
شاعر نے اِس شعر میں سننے اور دیکھنے کے فرق کو بڑے درد بھرے انداز میں باندھا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ جس تباہی اور المیے کو وہ کھلی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے اور جھیل رہا ہے، دنیا تو محض اُس کا بیاں سن کر کانپ اٹھتی ہے۔ یہ شعر اس خاموش کرب کا آئینہ دار ہے کہ جس رنج کو لفظوں میں سننا بھی انسان کے بس میں نہ ہو، اُسے خود برداشت کرنے والے پر کیا گزر رہی ہوگی۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
