جب ہوئی صبح آ گئے ناصح — داغ دہلوی
“At the break of dawn arrived the pious preacher; I merely sit and gaze upon that reverend gentleman.”
معنی
جیسے ہی صبح ہوئی نصیحت کرنے والے صاحب تشریف لے آئے؛ اب میں بس انہی حضرت کو دیکھ رہا ہوں۔
تشریح
عاشق نے ساری رات ہجر کے روگ یا مے نوشی کے خمار میں کاٹی ہے، اور پو پھٹتے ہی ناصح صاحب اصلاح کا وعظ سنانے آن پہنچے۔ عاشق نہ تو کوئی دلیل دیتا ہے اور نہ ہی خفا ہوتا ہے، بلکہ بس حیرت اور طنز بھری خاموشی سے ان کی طرف ٹکٹکی باندھے دیکھتا رہ جاتا ہے۔ اس شعر میں وعظ کی بے موقع سنجیدگی اور عاشق کی بیزاری کے درمیان جو ہلکا پھلکا طنز ہے، وہی اس کا اصل حسن ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
