ہر مصیبت ہے بے مزا شب غم — داغ دہلوی

ہر مصیبت ہے بے مزا شب غم آفت آفت کو دیکھتا ہوں میں

“Every torment has lost its savor in this night of grief; I merely watch as calamity gazes upon calamity.”

— داغ دہلوی

معنی

غم کی اس رات میں ہر مصیبت بے مزہ ہو چکی ہے، اور میں بس ایک آفت کو دوسری آفت کی طرف دیکھتے ہوئے پا رہا ہوں۔

تشریح

جب رنج و الم حد سے سوا ہو جائے تو انسان تکلیف کا احساس بھی کھو بیٹھتا ہے اور مصیبتیں اپنا اثر کھو کر بے مزہ ہو جاتی ہیں۔ شاعر شبِ غم کی اس انتہا پر ہے جہاں وہ خود سراپا آفت بن چکا ہے اور سامنے آنے والی آفتوں کو ایک بے حس تماشائی بن کر دیکھ رہا ہے۔ یہ شعر اس خاموش المیے کو بیان کرتا ہے جہاں مسلسل دکھ دل کو اتنا تھکا دیتا ہے کہ وہ درد محسوس کرنے کے قابل بھی نہیں رہتا۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.