غزل
گئی یک بہ یک جو ہوا پلٹ نہیں دل کو میرے قرار ہے
گئی یک بہ یک جو ہوا پلٹ نہیں دل کو میرے قرار ہے
یہ غزل ۱۸۵۷ء کے المیے کے بعد دہلی کی بربادی اور رعایا پر توڑے جانے والے بے پناہ مظالم کا دردناک مرثیہ ہے۔ شاعر نے وقت کے حاکموں کے قہر، عام لوگوں کی تباہی اور دل کے شدید رنج و بے قراری کو نہایت دل سوز انداز میں پیش کیا ہے۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
1
गई यक-ब-यक जो हवा पलट नहीं दिल को मेरे क़रार है
करूँ उस सितम को मैं क्या बयाँ मिरा ग़म से सीना फ़िगार है
گئی یک بہ یک جو ہوا پلٹ نہیں دل کو میرے قرار ہے
کروں اس ستم کو میں کیا بیاں مرا غم سے سینہ فگار ہے
اچانک حالات کا رخ بدل جانے سے میرے دل کو چین نہیں ہے، اور میں اس ظلم کو کیسے بیان کروں جب کہ غم سے میرا سینہ زخمی ہے۔
2
ये रेआया-ए-हिन्द तबह हुई कहूँ क्या जो इन पे जफ़ा हुई
जिसे देखा हाकिम-ए-वक़्त ने कहा ये भी क़ाबिल-ए-दार है
یہ رعایۂ ہند تبہ ہوئی کہوں کیا جو ان پہ جفا ہوئی
جسے دیکھا حاکم وقت نے کہا یہ بھی قابل دار ہے
ہندوستان کی رعایا تباہ و برباد ہو گئی ہے، میں ان پر ہونے والے مظالم کا کیا بیان کروں۔ اس وقت کے حکمران نے جس پر بھی نظر ڈالی، یہی کہا کہ یہ بھی سولی پر چڑھائے جانے کے لائق ہے۔
3
ये किसी ने ज़ुल्म भी है सुना कि दी फाँसी लोगों को बे-गुनाह
वही कलमा-गोयों की सम्त से अभी दिल में उन के बुख़ार है
یہ کسی نے ظلم بھی ہے سنا کہ دی پھانسی لوگوں کو بے گناہ
وہی کلمہ گویوں کی سمت سے ابھی دل میں ان کے بخار ہے
کیا کسی نے کبھی ایسا ظلم بھی سنا ہے کہ بے گناہ لوگوں کو پھانسی دے دی جائے؟ لگتا ہے کہ کلمہ پڑھنے والوں کے خلاف ان کے دلوں میں اب بھی غصہ اور کینہ بھرا ہوا ہے۔
4
न था शहर-ए-देहली ये था चमन कहो किस तरह का था याँ अमन
जो ख़िताब था वो मिटा दिया फ़क़त अब तो उजड़ा दयार है
نہ تھا شہر دہلی یہ تھا چمن کہو کس طرح کا تھا یاں امن
جو خطاب تھا وہ مٹا دیا فقط اب تو اجڑا دیار ہے
دہلی محض ایک شہر نہیں بلکہ ایک سرسبز چمن تھی جہاں کبھی بے مثال امن و امان ہوا کرتا تھا۔ اب اس کا وہ رتبہ اور پہچان مٹا دی گئی ہے اور یہ صرف ایک اجڑا ہوا دیار بن کر رہ گئی ہے۔
5
यही तंग हाल जो सब का है ये करिश्मा क़ुदरत-ए-रब का है
जो बहार थी सो ख़िज़ाँ हुई जो ख़िज़ाँ थी अब वो बहार है
یہی تنگ حال جو سب کا ہے یہ کرشمہ قدرت رب کا ہے
جو بہار تھی سو خزاں ہوئی جو خزاں تھی اب وہ بہار ہے
سب کا یہ جو برا اور تنگ حال ہے یہ دراصل اللہ کی قدرت کا کرشمہ ہے؛ جو کبھی بہار تھی وہ اب خزاں بن چکی ہے اور جو خزاں تھی وہ اب بہار بن گئی ہے۔
6
शब-ओ-रोज़ फूल में जो तुले कहो ख़ार-ए-ग़म को वो क्या सहे
मिले तौक़ क़ैद में जब उन्हें कहा गुल के बदले ये हार है
شب و روز پھول میں جو تلے کہو خار غم کو وہ کیا سہے
ملے طوق قید میں جب انہیں کہا گل کے بدلے یہ ہار ہے
جو شخص دن رات پھولوں میں تلتا رہا ہو، وہ بھلا غم کے کانٹے کیسے برداشت کرتا؛ مگر جب قید میں اسے لوہے کا طوق پہنایا گیا تو اس نے کہا کہ یہ پھولوں کے بدلے ایک ہار ہے۔
7
सभी जादा मातम-ए-सख़्त है कहो कैसी गर्दिश-ए-बख़्त है
न वो ताज है न वो तख़्त है न वह शाह है न दयार है
سبھی جادہ ماتم سخت ہے کہو کیسی گردش بخت ہے
نہ وہ تاج ہے نہ وہ تخت ہے نہ وہ شاہ ہے نہ دیار ہے
ہر راستہ شدید ماتم میں ڈوبا ہوا ہے، کہو یہ قسمت کا کیسا برا چکر ہے۔ اب نہ وہ تاج رہا، نہ وہ تخت، نہ وہ بادشاہ رہا اور نہ ہی وہ وطن باقی ہے۔
8
जो सुलूक करते थे और से वही अब हैं कितने ज़लील से
वो हैं तंग चर्ख़ के जौर से रहा तन पे उन के न तार है
جو سلوک کرتے تھے اور سے وہی اب ہیں کتنے ذلیل سے
وہ ہیں تنگ چرخ کے جور سے رہا تن پہ ان کے نہ تار ہے
جو لوگ پہلے دوسروں کے ساتھ برا برتاؤ کرتے تھے، آج وہ خود انتہائی ذلیل ہو چکے ہیں؛ وہ زمانے کے ظلم و ستم سے اس قدر تنگ ہیں کہ اب ان کے بدن پر ایک دھاگہ تک باقی نہیں رہا ہے۔
9
न वबाल तन पे है सर मिरा नहीं जान जाने का डर ज़रा
कटे ग़म ही, निकले जो दम मिरा मुझे अपनी ज़िंदगी बार है
نہ وبال تن پہ ہے سر مرا نہیں جان جانے کا ڈر ذرا
کٹے غم ہی، نکلے جو دم مرا مجھے اپنی زندگی بار ہے
میرے جسم پر میرا سر کوئی بوجھ نہیں ہے اور نہ ہی مجھے اپنی جان جانے کا ذرا بھی ڈر ہے۔ اگر میرا دم نکل جائے تو میرا غم ہی ختم ہوگا، کیونکہ مجھے اپنی زندگی خود پر بوجھ لگتی ہے۔
10
क्या है ग़म 'ज़फ़र' तुझे हश्र का जो ख़ुदा ने चाहा तो बरमला
हमें है वसीला रसूल का वो हमारा हामी-ए-कार है
کیا ہے غم ظفرؔ تجھے حشر کا جو خدا نے چاہا تو برملا
ہمیں ہے وسیلہ رسول کا وہ ہمارا حامیٔ کار ہے
اے ظفر! تمہیں قیامت کا کیا خوف ہے؟ اگر اللہ نے چاہا تو کھلم کھلا ہمارے پاس رسول اللہ کا وسیلہ ہے اور وہی ہمارے کام سنوارنے والے اور مددگار ہیں۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
