کیا ہے غم ظفرؔ تجھے حشر کا جو خدا نے چاہا تو برملا ہمیں ہے وسیلہ رسول کا وہ ہمارا حامیٔ کار ہے

“Why fret over the Day of Reckoning, Zafar? If God so wills, it is plain to see: we have the Prophet's holy intercession, and our protector and champion is he.”

— بہادر شاہ ظفر
معنی

اے ظفر! تمہیں قیامت کا کیا خوف ہے؟ اگر اللہ نے چاہا تو کھلم کھلا ہمارے پاس رسول اللہ کا وسیلہ ہے اور وہی ہمارے کام سنوارنے والے اور مددگار ہیں۔

تشریح

اس شعر میں ظفرؔ روزِ محشر کے خوف اور اضطراب کو دور کرتے ہوئے اپنے دل کو تسلی دیتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ اگر خدا کی رضا شاملِ حال ہو تو ہمیں کسی بات کا غم نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ ہمارے پاس رسولِ کریمؐ کی شفاعت کا وسیلہ ہے جو ہمارے سب سے بڑے حامی اور مددگار ہیں۔ یہ شعر خوف پر پختہ ایمان اور عشقِ رسولؐ کے گہرے اور پُرسکون اطمینان کا خوبصورت اظہار ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.

← Prev10 / 10