نہ تھا شہر دہلی یہ تھا چمن کہو کس طرح کا تھا یاں امن جو خطاب تھا وہ مٹا دیا فقط اب تو اجڑا دیار ہے

“Delhi was no mere city, but a flourishing garden; speak of the peace that once reigned here! / The title it proudly bore has been erased; now it remains nothing but a desolate realm.”

— بہادر شاہ ظفر
معنی

دہلی محض ایک شہر نہیں بلکہ ایک سرسبز چمن تھی جہاں کبھی بے مثال امن و امان ہوا کرتا تھا۔ اب اس کا وہ رتبہ اور پہچان مٹا دی گئی ہے اور یہ صرف ایک اجڑا ہوا دیار بن کر رہ گئی ہے۔

تشریح

شاعر یہاں دلی کو صرف اینٹ پتھر کا شہر نہیں، بلکہ امن اور تہذیب کا ایک مہکتا ہوا چمن قرار دیتا ہے۔ اس شعر میں دلی کے شاندار ماضی اور اس کی ویرانی کا تقابل کرتے ہوئے دل چیر دینے والا نوحہ پیش کیا گیا ہے۔ اس کی پرانی پہچان اور جاہ و جلال کو وقت نے مٹا دیا ہے، اور اب یہ باغ و بہار شہر محض ایک اجڑا ہوا اور بے بس دیار بن کر رہ گیا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.