“No burden is this head upon my frame, nor do I fear that my life depart; my grief would end if my breath should cease—for this living weighs heavy upon my heart.”
میرے جسم پر میرا سر کوئی بوجھ نہیں ہے اور نہ ہی مجھے اپنی جان جانے کا ذرا بھی ڈر ہے۔ اگر میرا دم نکل جائے تو میرا غم ہی ختم ہوگا، کیونکہ مجھے اپنی زندگی خود پر بوجھ لگتی ہے۔
اس شعر میں شاعر زندگی کے ناقابلِ برداشت بوجھ اور دل کی گہری تھکن کا احوال بیان کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ مجھے نہ تو جان جانے کا کوئی خوف ہے اور نہ سر کٹنے کا ملال، کیونکہ اب جینا ہی میرے لیے ایک عذاب اور بار بن چکا ہے۔ یہاں موت کو کسی المیے کے طور پر نہیں، بلکہ دکھوں اور غموں کے اس طویل سلسلے سے نجات کی ایک پرسکون راہ کے طور پر دیکھا گیا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
