“Has anyone ever heard of such tyranny, that the innocent are sent to the gallows? / Still in their hearts smolders that bitter malice against all who confess the creed.”
کیا کسی نے کبھی ایسا ظلم بھی سنا ہے کہ بے گناہ لوگوں کو پھانسی دے دی جائے؟ لگتا ہے کہ کلمہ پڑھنے والوں کے خلاف ان کے دلوں میں اب بھی غصہ اور کینہ بھرا ہوا ہے۔
یہ شعر اس دلدوز ناانصافی اور ستم ظریفی کی فریاد ہے جہاں بے گناہ انسانوں کو صرف پرانے عناد اور تعصب کی بھینٹ چڑھا کر دار پر لٹکا دیا گیا۔ شاعر نے دل کے 'بخار' کا اثر انگیز استعارہ استعمال کیا ہے، یعنی وہ اندر ہی اندر سلگتی ہوئی کینہ پروری جو ستم گروں کو اندھا کر دیتی ہے۔ یہ دراصل تاریخ کا ایک درد بھرا نوحہ ہے، جس میں ظلم و استبداد کے خلاف گہری کسک اور بے ساختہ حیرت جھلکتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
