“This straitened plight that burdens all is a wonder of God's decree: what once was spring has turned to autumn, and what was autumn now blooms anew.”
سب کا یہ جو برا اور تنگ حال ہے یہ دراصل اللہ کی قدرت کا کرشمہ ہے؛ جو کبھی بہار تھی وہ اب خزاں بن چکی ہے اور جو خزاں تھی وہ اب بہار بن گئی ہے۔
شاعر اس شعر میں زمانے کے نشیب و فراز اور قدرت کی حکمت کو بہار اور خزاں کے استعارے سے بڑی خوبصورتی سے سمجھا رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ آج جو ہر طرف تنگی اور بے بسی دکھائی دے رہی ہے، یہ دراصل اسی کائناتی نظام کا حصہ ہے جہاں عروج و زوال پلٹتے رہتے ہیں۔ جو کل شاداب تھا وہ آج ویران ہے اور جو کبھی اجڑا ہوا تھا وہاں اب رونق ہے؛ یہ بات دل کو تسلی دیتی ہے کہ حالات کا کوئی بھی رخ ہمیشہ رہنے والا نہیں ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
