“Those who once treated others with disdain now suffer so abject a plight; crushed by the cruel wheel of fate, not a single thread covers their frame.”
جو لوگ پہلے دوسروں کے ساتھ برا برتاؤ کرتے تھے، آج وہ خود انتہائی ذلیل ہو چکے ہیں؛ وہ زمانے کے ظلم و ستم سے اس قدر تنگ ہیں کہ اب ان کے بدن پر ایک دھاگہ تک باقی نہیں رہا ہے۔
یہ شعر وقت کی گردش اور مکافاتِ عمل کا ایک پُراثر منظر پیش کرتا ہے۔ جو لوگ کبھی غرور کے نشے میں دوسروں کے ساتھ حقارت اور بے رخی سے پیش آتے تھے، آج گردشِ زمانہ نے انہیں ایسا بے بس کیا ہے کہ تن ڈھانپنے کو کپڑا تک نہیں رہا۔ شاعر بڑی سادگی سے سمجھاتے ہیں کہ فلک کا چرخہ جب الٹا گھومتا ہے تو بڑے بڑے مغروروں کا تکبر خاک میں مل جاتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
