“Every path is shrouded in bitter grief, what a cruel turn of fate is this; gone is the crown, gone the throne, gone the king, and gone the realm.”
ہر راستہ شدید ماتم میں ڈوبا ہوا ہے، کہو یہ قسمت کا کیسا برا چکر ہے۔ اب نہ وہ تاج رہا، نہ وہ تخت، نہ وہ بادشاہ رہا اور نہ ہی وہ وطن باقی ہے۔
یہ شعر گردشِ ایام کے ستم اور ایک اجڑی ہوئی بستی کے المیے کی دلدوز تصویر کشی کرتا ہے، جہاں ہر راہ پر سوگ اور ویرانی کا پہرہ ہے۔ شاعر تاج و تخت، بادشاہ اور وطن کے مٹ جانے کا نوحہ پڑھ کر دراصل ایک پوری تہذیب اور سنہرے دور کے زوال پر خون کے آنسو رو رہا ہے۔ یہ ہمیں جاہ و حشمت کی بے ثباتی کا احساس دلاتا ہے کہ وقت کی ایک بے رحم کروٹ صدیوں کے وقار کو لمحوں میں مٹی میں ملا دیتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
