شب و روز پھول میں جو تلے کہو خار غم کو وہ کیا سہے ملے طوق قید میں جب انہیں کہا گل کے بدلے یہ ہار ہے

“One weighed against blossoms day and night—say, how could they bear sorrow's piercing thorn? / When clamped in an iron yoke in prison, they smiled: 'In place of flowers, this garland is worn.'”

— بہادر شاہ ظفر
معنی

جو شخص دن رات پھولوں میں تلتا رہا ہو، وہ بھلا غم کے کانٹے کیسے برداشت کرتا؛ مگر جب قید میں اسے لوہے کا طوق پہنایا گیا تو اس نے کہا کہ یہ پھولوں کے بدلے ایک ہار ہے۔

تشریح

یہ شعر اس پُر وقار انسان کا احوال بیان کرتا ہے جس کی نزاکت کا یہ عالم تھا کہ اسے شب و روز پھولوں میں تولا جاتا تھا۔ شاعر پہلے مصرعے میں تذبذب کا شکار ہے کہ اتنی نازک جان غم کے کانٹے کیسے جھیلے گی، مگر دوسرے مصرعے کا جواب دنگ کر دیتا ہے۔ قید میں جب اس کے گلے میں لوہے کا بھاری طوق ڈالا گیا، تو شکوہ کرنے کے بجائے اس نے اسے پھولوں کا ہار کہہ کر اپنا لیا۔ مصیبت کو اتنے حسن اور تسلیم و رضا کے ساتھ گلے لگانا ہی اس شعر کا کمال ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.