غزل
इशाराय केवो मभम हो गयो है
इशाराय केवो मभम हो गयो है
یہ غزل ایک گہرے اور پراسرار احساس کے اظہار کو بیان کرتی ہے، جہاں شاعر کو اپنے جذبات کے اظہار میں ایک عجیب سی لذت اور حیرت محسوس ہوتی ہے۔ یہ عشق کی اس کیفیت کا ذکر ہے جو نہ صرف دل کو چھو جاتی ہے، بلکہ ذہن کو بھی ایک نامعلوم سفر پر لے جاتی ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
ઇશારોય કેવો મભમ થઈ ગયો છે!
અગમ થઈ ગયો છે, નિગમ થઈ ગયો છે.
اشارہ ہی کیسا مبہم ہو گیا ہے! اگم ہو گیا ہے، نگم ہو گیا ہے
اشارہ ہی کتنا مبہم ہو گیا ہے! وہ نہ سمجھ میں آنے والا بن گیا ہے، اور ساتھ ہی معلوم و معروف بھی ہو گیا ہے۔
2
દૂભવવું એ દુનિયાનો ક્રમ થઈ ગયો છે;
તડપવું એ દિલનો નિયમ થઈ ગયો છે.
دکھ پانا یہ دنیا کا معمول ہو گیا ہے؛تڑپنا یہ دل کا دستور ہو گیا ہے ۔
دکھ پانا اس دنیا کا معمول بن گیا ہے، اور تڑپنا دل کا دستور ہو گیا ہے۔
3
ફરી દિલનો ઘેરો જખમ થઈ ગયો છે;
ચલિત પ્રેમ સાબિત કદમ થઈ ગયો છે.
پھر دل کا گہرا زخم ہو گیا ہے؛چلت پریم ثابت قدم ہو گیا ہے۔
پھر دل کا گہرا زخم تازہ ہو گیا ہے۔ چنچل محبت ثابت قدم ہو گئی ہے۔
4
હવે ગમ હકીકતમાં ગમ થઈ ગયો છે;
સુગમ કોયડો બહુ વિષમ થઈ ગયો છે.
اب غم حقیقت میں غم ہو گیا ہے؛سُگم پہیلی بہت وِشم ہو گئی ہے
اب غم حقیقت میں غم ہو گیا ہے؛ ایک سُگم پہیلی بہت وِشم ہو گئی ہے۔
5
જખમ ખુદ જખમનો મલમ થઈ ગયો છે;
ઘણી વાર એવોય ભ્રમ થઈ ગયો છે.
زخم خود زخم کا مرہم ہو گیا ہے؛کئی بار ایسا بھی بھرم ہو گیا ہے۔
زخم خود زخم کا مرہم بن گیا ہے؛ کئی بار ایسا بھرم بھی ہو گیا ہے۔
6
અમે એક ફાટેલ પ્યાલો પીધો’તો,
નવાઈ છે એ પણ હજમ થઈ ગયો છે.
ہم نے ایک ٹوٹا پیالہ پیا تھا،حیرانی ہے، وہ بھی ہضم ہو گیا ہے
ہم نے ایک پھٹے پیالے سے پیا تھا، یہ حیرت انگیز ہے کہ وہ بھی ہضم ہو گیا ہے۔
7
નજર એમણે ફેરવી શું લીધી છે!
જીવનમાં ઘણો કેફ કમ થઈ ગયો છે.
نظر انہوں نے کیا پھیر لی ہے!زندگی میں کتنا کیف کم ہو گیا ہے۔
جب انہوں نے نظر پھیری تو زندگی کا بہت سا کیف کم ہو گیا۔
8
અમારા જ હાથે અમારા જ માથે,
ઘણી વાર ભારે સિતમ થઈ ગયો છે.
ہمارے ہی ہاتھوں ہمارے ہی ماتھے،کئی بار بھاری ستم ہو گیا ہے۔
اکثر ہمارے ہی ہاتھوں سے، ہمارے ہی سر پر، بہت بڑا ستم ہوا ہے۔
9
જુવાનીના સોગન! જુવાનીના મદમાં,
જુવાની ઉપર પણ જુલમ થઈ ગયો છે.
جوانی کی قسم! جوانی کے مد میں،جوانی پر بھی ظلم ہو گیا ہے۔
جوانی کی قسم! جوانی کے نشے میں، جوانی پر بھی ظلم ہو گیا ہے۔
10
ઘણી વાર વેરણ દયા થઈ ગઈ છે,
ઘણી વાર વેરી ધરમ થઈ ગયો છે.
کئی بار دشمن ہوئی ہے دَیا،کئی بار دشمن ہوا ہے دھرم۔
کئی بار دَیا ہی دشمن بن گئی ہے، اور کئی بار دھرم ہی مخالف ثابت ہوا ہے۔
11
નથી આંખમાં છાંટ સુધ્ધાં શરમની,
જમાનોય બહુ બેશરમ થઈ ગયો છે!
آنکھوں میں شرم کی چھینٹ بھی نہیں،یہ زمانہ بھی بہت بےشرم ہو گیا ہے!
آنکھوں میں شرم کی چھینٹ بھی نہیں، یہ زمانہ بھی بہت بےشرم ہو گیا ہے!
12
નહીં ચાલવા દે એ અંધેર આવું,
નવાં માનવીનો જનમ થઈ ગયો છે.
یہ اندھیر اب چلنے نہیں دے گا،نئے انسان کا جنم ہو گیا ہے۔
یہ اندھیر اب چلنے نہیں دے گا۔ نئے انسان کا جنم ہو گیا ہے۔
13
ન હો કેમ દર્દીલી ‘ઘાયલ’ની ગઝલો?
દરદમાં જ પાગલ ખતમ થઈ ગયો છે.
نہ ہوں کیوں درد بھری 'غائل' کی غزلیں؟ درد ہی میں تو پاگل ختم ہو گیا ہے۔
غائل کی غزلیں درد سے بھری کیوں نہ ہوں؟ پاگل تو درد ہی میں ختم ہو گیا ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
