“By youth's own oath! In youth's intoxication, Even upon youth, an injustice has been done.”
جوانی کی قسم! جوانی کے نشے میں، جوانی پر بھی ظلم ہو گیا ہے۔
یہ شعر کتنا خوبصورت ہے، سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے، ہے نا؟ یہ دکھاتا ہے کہ جوانی، اپنے پورے جوش و خروش اور مستی میں – اُس سرشار 'مد' میں – کبھی کبھی انجانے میں اپنا ہی نقصان کر بیٹھتی ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے جوانی نے اپنی ہی اُمنگ میں، یا اتنی تیزی سے جی کر، خود پر ہی ایک طرح کا 'ظلم' کر دیا ہو، جس سے شاید بعد میں پچھتاوا ہوتا ہے۔ جوانی کے اس تضاد کو کتنی خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے!
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
