کئی بار دشمن ہوئی ہے دَیا،کئی بار دشمن ہوا ہے دھرم۔
“Many a time has mercy turned an enemy,Many a time has dharma become a foe.”
— امرت گھائل
معنی
کئی بار دَیا ہی دشمن بن گئی ہے، اور کئی بار دھرم ہی مخالف ثابت ہوا ہے۔
تشریح
یہ شعر کتنا گہرا اور حیران کن خیال پیش کرتا ہے، ہے نا؟ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ کبھی کبھی جس چیز کو ہم رحم سمجھتے ہیں، وہ انجانے میں کسی کے لیے دشمن بن جاتی ہے۔ اسی طرح، جو دھرم یا صحیح فرض ہوتا ہے، وہ بھی بعض اوقات رکاوٹ یا مخالف بن کر سامنے آ سکتا ہے۔ یہ زندگی کی پیچیدگیوں پر ایک خوبصورت نظر ہے، جو دکھاتی ہے کہ نیک ارادے ہمیشہ مطلوبہ نتائج نہیں دیتے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
