دکھ پانا یہ دنیا کا معمول ہو گیا ہے؛تڑپنا یہ دل کا دستور ہو گیا ہے ۔
“To suffer has become the world's order;To pine has become the heart's law.”
— امرت گھائل
معنی
دکھ پانا اس دنیا کا معمول بن گیا ہے، اور تڑپنا دل کا دستور ہو گیا ہے۔
تشریح
یہ شعر دل کو چھو لیتا ہے، ہے نا؟ یہ کہتا ہے کہ دکھ پانا اب دنیا کا ایک معمول بن چکا ہے، جیسے سورج کا ہر روز نکلنا۔ اور ایک سچے دل کے لیے، تڑپ اور بے چینی کوئی عارضی احساسات نہیں، بلکہ اس کی فطرت کا ایک اٹوٹ دستور ہیں۔ یہ خوبصورتی سے بیان کرتا ہے کہ کیسے درد اور تڑپ دونوں ہی زندہ رہنے اور ایک حساس دل رکھنے کا لازمی حصہ بن چکے ہیں۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
