غزل
કારણ મને ગમે છે
કારણ મને ગમે છે
یہ غزل محبت کی نشہ آور اور پراسرار دنیا کا بیان ہے، جہاں شاعر زندگی کے ہر پہلو میں ایک ماورائی کشش محسوس کرتا ہے۔ اس میں جذبات کی گہرائی اور وجود کے پیچیدہ دھاروں کو کاوش نگاری کے انداز میں بুন کر پیش کیا گیا ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
કાજળભર્યાં નયનનાં કામણ મને ગમે છે,
કારણ નહીં જ આપું, કારણ, મને ગમે છે.
کاجل بھرے نینوں کے جادو مجھے بھاتے ہیں، سبب نہیں ہی دوں گا، سبب، مجھے بھاتے ہیں
مجھے کاجل بھری آنکھوں کا جادو پسند ہے۔ میں اس کی کوئی وجہ نہیں دوں گا، بس اس لیے کہ مجھے یہ پسند ہے۔
2
લજ્જા થકી નમેલી પાંપણ મને ગમે છે,
ભાવે છે ભાર મનને ભારણ મને ગમે છે.
لجّہ سے جھکی پلکیں مجھے پسند ہیں،
من کو بھاری لگے، وہ بار مجھے پسند ہے۔
مجھے شرم سے جھکی ہوئی پلکیں پسند ہیں؛ جو بوجھ دل پر بھاری لگتا ہے، وہ بوجھ بھی مجھے پسند ہے۔
3
જીવન અને મરણની હરક્ષણ મને ગમે છે,
કે ઝેર પણ ગમે છે મારણ મને ગમે છે.
جیون اور مرن کا ہر لمحہ مجھے پسند ہے،کہ زہر بھی پسند ہے، موت مجھے پسند ہے
شاعر کو زندگی اور موت کا ہر لمحہ پسند ہے۔ انہیں زہر اور خود موت بھی عزیز ہے۔
4
ખોટી તો ખોટી હૈયાધારણ મને ગમે છે,
રણ હોય ઝાંઝવાનાં તોપણ મને ગમે છે.
جھوٹی تو جھوٹی تسلی مجھے پسند ہے،صحرا ہو سرابوں کا، پھر بھی مجھے پسند ہے
مجھے جھوٹی تسلی بھی پسند ہے۔ اگر صحرا سرابوں کا ہو، تب بھی مجھے وہ پسند ہے۔
5
સુંદર બની ગયું છે કંઈ ઓર દિલ મટીને,
તૂટી ગયું છે તોયે દર્પણ મને ગમે છે.
دل مِٹ کے کچھ اور ہی حسیں بن گیا ہے،ٹوٹا ہوا بھی یہ آئینہ مجھے عزیز ہے
دل مِٹ کر کچھ اور ہی حسیں بن گیا ہے، اور ٹوٹا ہوا بھی یہ آئینہ مجھے عزیز ہے۔
6
લાવે છે યાદ ફૂલો છાબો ભરીભરીને,
છે ખૂબ મ્હોબતીલી માલણ મને ગમે છે.
لاتی ہے یاد پھول، چھابوں کو بھر بھر کے، ہے خوب محبّتی مالن، مجھے بھاتی ہے
پھول، ٹوکریوں کو بھر بھر کر، یادیں لاتے ہیں۔ وہ بہت محبّتی مالن مجھے پسند ہے۔
7
આવી ગયાં છો આંસુ લૂછો નહીં ભલા થઈ,
એ બારે માસ લીલાં તોરણ મને ગમે છે.
آنسو آ گئے ہیں، انہیں مت پونچھو مہرباں بن کر،وہ بارہ ماہ کے ہرے توارن مجھے اچھے لگتے ہیں۔
شاعر کہتا ہے کہ آنسو آ گئے ہیں، انہیں مت پونچھو، مہربان بنو، کیونکہ وہ بارہ ماہ کے ہرے توارن کی طرح مجھے اچھے لگتے ہیں۔
8
લજ્જાના બંધ તોડી જુલ્ફો દિયો વિખેરી,
જીવન બને છો વેરણછેરણ, મને ગમે છે.
حیا کے بند توڑ کر زلفیں بکھیر دو،زندگی بھلے ہو پریشان، مجھے یہ پسند ہے
حیا کے بند توڑ کر اپنی زلفیں بکھیر دو۔ بھلے ہی زندگی پریشان حال ہو جائے، مجھے یہی پسند ہے۔
9
હું એટલે તો એને વેંઢારતો રહું છું,
સોગંદ જિંદગીના, વળગણ મને ગમે છે.
میں اسی لیے تو اسے ڈھوتا رہتا ہوں، قسم ہے زندگی کی، لگن مجھے پسند ہے۔
میں اسے اسی لیے اٹھاتا رہتا ہوں کیونکہ مجھے زندگی کی قسم ہے، یہ لگاؤ مجھے پسند ہے۔
10
દિલ શું હવે હું પાછી દુનિયાય પણ નહીં દઉં,
એ પણ મને ગમે છે, આ પણ મને ગમે છે.
دل کیا اب میں واپس دنیا بھی نہیں دوں گا، وہ بھی مجھے پسند ہے، یہ بھی مجھے پسند ہے
شاعر سوال کرتا ہے کہ کیا اب وہ اپنا دل، یا پھر دنیا بھی واپس نہیں دے گا، کیونکہ اسے وہ بھی پسند ہے اور یہ بھی پسند ہے۔
11
હસવું અચૂક હસવું, દુઃખમાંય મુક્ત હસવું,
દીવાનગી તણું આ ડહાપણ મને ગમે છે.
ہنسنا ضرور ہنسنا، دکھ میں بھی آزاد ہنسنا،دیوانگی کی یہ دانائی مجھے بھاتی ہے۔
شخص کو یقیناً اور کھل کر ہنسنا چاہیے، یہاں تک کہ دکھ میں بھی بے فکر ہو کر ہنسنا چاہیے۔ مجھے دیوانگی کی یہ دانائی بہت پسند ہے۔
12
ભેટ્યો છું મોતને પણ કંઈ વાર જિંદગીમાં,
આ ખોળિયાની જેમ જ ખાંપણ મને ગમે છે.
گلے لگایا ہے موت کو بھی کئی بار زندگی میں،اس جسم کی طرح ہی مجھ کو کفن بھی پسند ہے
شاعر کہتا ہے کہ اس نے زندگی میں کئی بار موت کو گلے لگایا ہے۔ اس جسم کی طرح ہی اسے کفن بھی پسند ہے۔
13
‘ઘાયલ' મને મુબારક આ ઊર્મિકાવ્ય મારાં,
મેં રોઈને ભર્યાં છે એ રણ મને ગમે છે.
اے 'غائل'، مبارک ہیں مجھے یہ میرے نغماتی اشعار، میں نے رو رو کر بھرے ہیں وہ دشت، اور وہ مجھے بھاتے ہیں۔
اے 'غائل'، مجھے میرے یہ نغماتی اشعار مبارک ہیں۔ میں نے رو رو کر جن دشتوں کو بھرا ہے، وہ دشت مجھے اب عزیز ہیں۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
