غزل

دل سے خیال دوست بھلایا نہ جائے گا

دل سے خیال دوست بھلایا نہ جائے گا
الطاف حسین حالی· Ghazal· 11 shers· radif: न जाएगा

یہ غزل محبوب کی انمٹ یاد اور سچی محبت کے دائمی اثر کو بیان کرتی ہے جسے دل سے مٹانا ناممکن ہے۔ اس میں یہ حقیقت اجاگر کی گئی ہے کہ تمام تر شرم، حیا اور ضبط کے باوجود عشق کا راز کبھی چھپائے نہیں چھپتا۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
رسم الخط
1
दिल से ख़याल-ए-दोस्त भुलाया न जाएगा सीने में दाग़ है कि मिटाया न जाएगा
دل سے خیال دوست بھلایا نہ جائے گا سینے میں داغ ہے کہ مٹایا نہ جائے گا
دل سے محبوب کا خیال کبھی بھلایا نہیں جا سکے گا۔ یہ سینے پر ایسا داغ ہے جسے کبھی مٹایا نہیں جا سکتا۔
2
तुम को हज़ार शर्म सही मुझ को लाख ज़ब्त उल्फ़त वो राज़ है कि छुपाया न जाएगा
تم کو ہزار شرم سہی مجھ کو لاکھ ضبط الفت وہ راز ہے کہ چھپایا نہ جائے گا
چاہے آپ کو کتنی ہی جھجھک اور شرم ہو اور مجھ میں کتنا ہی صبر و ضبط ہو، محبت ایسا راز ہے جسے چھپایا نہیں جا سکتا۔
3
ऐ दिल रज़ा-ए-ग़ैर है शर्त-ए-रज़ा-ए-दोस्त ज़िन्हार बार-ए-इश्क़ उठाया न जाएगा
اے دل رضائے غیر ہے شرط رضائے دوست زنہار بار عشق اٹھایا نہ جائے گا
اے دل، محبوب کی خوشنودی پانے کے لیے غیر کی مرضی پوری کرنا شرط ٹھہرا ہے؛ محبت کا یہ بھاری بوجھ اب ہرگز نہیں اٹھایا جا سکے گا۔
4
देखी हैं ऐसी उन की बहुत मेहरबानियाँ अब हम से मुँह में मौत के जाया न जाएगा
دیکھی ہیں ایسی ان کی بہت مہربانیاں اب ہم سے منہ میں موت کے جایا نہ جائے گا
ہم نے ان کی ایسی بہت سی مہربانیاں دیکھ لی ہیں کہ اب ہم سے موت کے منہ میں نہیں جایا جائے گا۔
5
मय तुंद ओ ज़र्फ़-ए-हौसला-ए-अहल-ए-बज़्म तंग साक़ी से जाम भर के पिलाया न जाएगा
مے تند و ظرف حوصلۂ اہل بزم تنگ ساقی سے جام بھر کے پلایا نہ جائے گا
شراب بہت تیز ہے اور محفل کے حاضرین کا ظرف اور حوصلہ کم ہے، اس لیے ساقی سے پورا جام بھر کر پلایا نہیں جا سکے گا۔
6
राज़ी हैं हम कि दोस्त से हो दुश्मनी मगर दुश्मन को हम से दोस्त बनाया न जाएगा
راضی ہیں ہم کہ دوست سے ہو دشمنی مگر دشمن کو ہم سے دوست بنایا نہ جائے گا
ہمیں یہ تو گوارا ہے کہ کسی دوست سے دشمنی ہو جائے، مگر ہم سے کسی دشمن کو کبھی دوست نہیں بنایا جا سکتا۔
7
क्यूँ छेड़ते हो ज़िक्र न मिलने का रात के पूछेंगे हम सबब तो बताया न जाएगा
کیوں چھیڑتے ہو ذکر نہ ملنے کا رات کے پوچھیں گے ہم سبب تو بتایا نہ جائے گا
رات کے وقت نہ ملنے کا ذکر کیوں چھیڑتے ہو؟ اگر ہم اس کا سبب پوچھیں گے تو تم سے بتایا نہیں جائے گا۔
8
बिगड़ें न बात बात पे क्यूँ जानते हैं वो हम वो नहीं कि हम को मनाया न जाएगा
بگڑیں نہ بات بات پہ کیوں جانتے ہیں وہ ہم وہ نہیں کہ ہم کو منایا نہ جائے گا
وہ بات بات پر ناراض کیوں نہ ہوں، وہ خوب جانتے ہیں کہ ہم ایسے نہیں ہیں جنہیں منایا نہ جا سکے۔
9
मिलना है आप से तो नहीं हस्र ग़ैर पर किस किस से इख़्तिलात बढ़ाया न जाएगा
ملنا ہے آپ سے تو نہیں حصر غیر پر کس کس سے اختلاط بڑھایا نہ جائے گا
اگر آپ سے ملنا غیروں پر ہی منحصر ہے تو آخر انسان کس کس سے میل جول اور تعلقات بڑھائے گا۔
10
मक़्सूद अपना कुछ न खुला लेकिन इस क़दर या'नी वो ढूँडते हैं जो पाया न जाएगा
مقصود اپنا کچھ نہ کھلا لیکن اس قدر یعنی وہ ڈھونڈتے ہیں جو پایا نہ جائے گا
میرا اصل مقصد تو واضح نہ ہو سکا، مگر صرف اتنا معلوم ہوا کہ میں ایسی چیز تلاش کر رہا ہوں جو کبھی مل نہیں سکتی۔
11
झगड़ों में अहल-ए-दीं के न 'हाली' पड़ें बस आप क़िस्सा हुज़ूर से ये चुकाया न जाएगा
جھگڑوں میں اہل دیں کے نہ حالیؔ پڑیں بس آپ قصہ حضور سے یہ چکایا نہ جائے گا
حالیؔ، آپ اہل دین کے جھگڑوں میں بالکل نہ پڑیں، کیونکہ یہ ایسا معاملہ ہے جو آپ سے سلجھایا نہیں جا سکے گا۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.