“O heart, the rival's pleasure is the condition to please the beloved; by no means can this heavy burden of love be borne.”
اے دل، محبوب کی خوشنودی پانے کے لیے غیر کی مرضی پوری کرنا شرط ٹھہرا ہے؛ محبت کا یہ بھاری بوجھ اب ہرگز نہیں اٹھایا جا سکے گا۔
اس شعر میں عاشق اپنے دل کے روبرو محبت کی ایک روح فرسا آزمائش کا دکھڑا بیان کر رہا ہے۔ محبوب کی رضا اور خوشنودی پانے کی شرط یہ رکھی گئی ہے کہ رقیب کی خوشی کو تسلیم کیا جائے۔ عشق میں دل ہر زخم، ہجر اور قربانی تو سہہ سکتا ہے، مگر اپنی خودداری کو کچل کر غیر کی رضا کا بوجھ ڈھونا ایسا امتحان ہے جسے نبھانا ناممکن ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
