“My true intent was never revealed, yet this much is known: I seek that which can never be found.”
میرا اصل مقصد تو واضح نہ ہو سکا، مگر صرف اتنا معلوم ہوا کہ میں ایسی چیز تلاش کر رہا ہوں جو کبھی مل نہیں سکتی۔
یہ شعر انسانی آرزو اور اس کی لامتناہی جستجو کی ایک پُردرد اور دلکش تصویر ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ اگرچہ اس کی منزل یا مقصد کا راز کبھی پوری طرح کھل نہ سکا، مگر اتنا طے ہے کہ وہ کسی ایسی شے کی تلاش میں ہے جو اس دنیا میں حاصل نہیں ہو سکتی۔ یہ جستجو خواہ عشقِ حقیقی کی ہو، کسی نایاب خواب کی یا کمالِ محبت کی—شعر کا سارا حسن اس بات میں پنہاں ہے کہ اصل زندگی پانے میں نہیں، بلکہ اسی لاحاصل کو ڈھونڈتے رہنے میں ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
