“If reaching you depends upon the favor of strangers, with just how many rivals must one cultivate intimacy?”
اگر آپ سے ملنا غیروں پر ہی منحصر ہے تو آخر انسان کس کس سے میل جول اور تعلقات بڑھائے گا۔
اس شعر میں شاعر نے محبوب تک پہنچنے کے راستے میں حائل غیروں اور دربانوں پر بڑی خوبصورت اور تیکھی چوٹ کی ہے۔ عاشق شکوہ کرتا ہے کہ اگر آپ کے دیدار کی شرط دوسروں کی خوشامد پر ٹکی ہو، تو بندہ آخِر کس کس سے بے دلی کا تعلق نبھائے؟ یہ دراصل محبت میں اپنی خودداری کو برقرار رکھنے اور محبوب کی قائم کردہ رکاوٹوں پر ایک پُراثر اور پُرمزاح طنز ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
