“Do not embroil yourself, O Hali, in the quarrels of the pious; / This is a dispute, sire, that you will never be able to settle.”
حالیؔ، آپ اہل دین کے جھگڑوں میں بالکل نہ پڑیں، کیونکہ یہ ایسا معاملہ ہے جو آپ سے سلجھایا نہیں جا سکے گا۔
حالیؔ یہاں خود کو اور ہم سب کو ایک بڑی پرلطف اور دانشمندانہ نصیحت کر رہے ہیں کہ مذہب کے نام نہاد علمبرداروں کے آپسی فروعی جھگڑوں میں پڑنے سے بچنا ہی بہتر ہے۔ یہ صدیوں پرانے ایسے لامتناہی اور لاحاصل تنازعات ہیں جنہیں بحث و تکرار سے کبھی چکایا نہیں جا سکتا، کیونکہ وہاں سچ کی تلاش کے بجائے اپنی اپنی انا کی تسکین مقصود ہوتی ہے۔ شاعر کمال کی سادگی سے سمجھاتے ہیں کہ اپنی توانائی ان بے فیض بحثوں میں ضائع کرنے کے بجائے درگزر اور امن پسندی اختیار کرنا ہی دانشمندی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
