مے تند و ظرف حوصلۂ اہل بزم تنگ ساقی سے جام بھر کے پلایا نہ جائے گا

“The wine is fierce and frail the spirit of the gathered throng; / The cupbearer will not dare to serve a goblet brimming full.”

— الطاف حسین حالی
معنی

شراب بہت تیز ہے اور محفل کے حاضرین کا ظرف اور حوصلہ کم ہے، اس لیے ساقی سے پورا جام بھر کر پلایا نہیں جا سکے گا۔

تشریح

اس شعر میں شاعر نے مے خانے کی خوبصورت تمثیل کے ذریعے انسانی کم ظرفی کا احوال بیان کیا ہے۔ شراب سے مراد عشق، سچائی یا معرفت کی وہ تیز اور بے پناہ شدت ہے جسے سنبھالنے کا حوصلہ محفل والوں کے پاس نہیں۔ ساقی یہ بات خوب جانتا ہے، اسی لیے وہ پورا جام بھر کر نہیں پلاتا کیونکہ اس سچائی کو سہارنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.