غزل
وہ ہوا نہ رہی وہ چمن نہ رہا وہ گلی نہ رہی وہ حسیں نہ رہے
وہ ہوا نہ رہی وہ چمن نہ رہا وہ گلی نہ رہی وہ حسیں نہ رہے
یہ غزل وقت کے گزرنے اور ماضی کی شادابیوں کے زوال کا دلدوز بیان ہے۔ اس میں کھوئی ہوئی بہاروں، اپنوں کی بے رخی اور بدلتے ماحول پر رنج ظاہر کرتے ہوئے شاعر نے خود اپنے وجود کے بھی پہلے جیسا نہ رہنے کا گہرا نوحہ کیا ہے۔
Source: rekhta · HI
ویڈیو · کلاسک
ویڈیو دیکھیں →نغمہ سنیں
1
वो हवा न रही वो चमन न रहा वो गली न रही वो हसीं न रहे
वो फ़लक न रहा वो समाँ न रहा वो मकाँ न रहे वो मकीं न रहे
وہ ہوا نہ رہی وہ چمن نہ رہا وہ گلی نہ رہی وہ حسیں نہ رہے
وہ فلک نہ رہا وہ سماں نہ رہا وہ مکاں نہ رہے وہ مکیں نہ رہے
نہ وہ ہوا رہی، نہ وہ باغ رہا، نہ وہ گلی رہی اور نہ وہ خوبصورت لوگ رہے؛ نہ وہ آسمان رہا، نہ وہ سماں رہا، نہ وہ گھر رہے اور نہ ان میں رہنے والے رہے۔
2
वो गुलों में गुलों की सी बू न रही वो अज़ीज़ों में लुत्फ़ की ख़ू न रही
वो हसीनों में रंग-ए-वफ़ा न रहा कहें और की क्या वो हमीं न रहे
وہ گلوں میں گلوں کی سی بو نہ رہی وہ عزیزوں میں لطف کی خو نہ رہی
وہ حسینوں میں رنگ وفا نہ رہا کہیں اور کی کیا وہ ہمیں نہ رہے
اب پھولوں میں پھولوں جیسی خوشبو نہیں رہی، پیاروں میں مہربانی کی عادت باقی نہیں رہی اور حسینوں میں وفا کا رنگ نہیں رہا؛ دوسروں کی کیا بات کریں، اب ہم خود بھی ویسے نہیں رہے۔
3
न वो आन रही न उमंग रही न वो रिंदी ओ ज़ोहद की जंग रही
सू-ए-क़िबला निगाहों के रुख़ न रहे और दर पे नक़्श-ए-जबीं न रहे
نہ وہ آن رہی نہ امنگ رہی نہ وہ رندی و زہد کی جنگ رہی
سوئے قبلہ نگاہوں کے رخ نہ رہے اور در پہ نقش جبیں نہ رہے
اب نہ وہ وقار اور جوش باقی رہا اور نہ ہی رندی و پرہیزگاری کا جھگڑا؛ نہ نگاہیں قبلے کی طرف رخ کرتی ہیں اور نہ محبوب کے در پر سجدہ ریز پیشانی کے نشان باقی ہیں۔
4
न वो जाम रहे न वो मस्त रहे न फ़िदाई-ए-अहद-ए-अलस्त रहे
वो तरीक़ा-ए-कार-ए-जहाँ न रहा वो मशाग़िल-ए-रौनक़-ए-दीं न रहे
نہ وہ جام رہے نہ وہ مست رہے نہ فدائی عہد الست رہے
وہ طریقۂ کار جہاں نہ رہا وہ مشاغل رونق دیں نہ رہے
اب نہ وہ شراب کے پیالے رہے اور نہ وہ مست لوگ، اور نہ ہی عہدِ الست پر جان قربان کرنے والے باقی رہے؛ نہ دنیا کے کام کاج کا وہ طریقہ رہا اور نہ ہی دین کی رونق بڑھانے والی وہ سرگرمیاں باقی رہیں۔
5
हमें लाख ज़माना लुभाए तो क्या नए रंग जो चर्ख़ दिखाए तो क्या
ये मुहाल है अहल-ए-वफ़ा के लिए ग़म-ए-मिल्लत ओ उल्फ़त-ए-दीं न रहे
ہمیں لاکھ زمانہ لبھائے تو کیا نئے رنگ جو چرخ دکھائے تو کیا
یہ محال ہے اہل وفا کے لیے غم ملت و الفت دیں نہ رہے
زمانہ ہمیں خواہ کتنا ہی لبھائے یا گردشِ وقت کتنے ہی نئے رنگ دکھائے، باوفا لوگوں کے لیے یہ ناممکن ہے کہ ان کے دل سے قوم کا غم اور دین کی محبت مٹ جائے۔
6
तिरे कूचा-ए-ज़ुल्फ़ में दिल है मिरा अब उसे मैं समझता हूँ दाम-ए-बला
ये अजीब सितम है अजीब जफ़ा कि यहाँ न रहे तो कहीं न रहे
ترے کوچۂ زلف میں دل ہے مرا اب اسے میں سمجھتا ہوں دام بلا
یہ عجیب ستم ہے عجیب جفا کہ یہاں نہ رہے تو کہیں نہ رہے
میرا دل تمہاری زلفوں کی گلی میں پھنسا ہے جسے اب میں مصیبت کا جال سمجھتا ہوں۔ یہ کیسا عجیب ستم ہے کہ اگر دل یہاں نہ رہے تو پھر کہیں اور رہنے کے قابل بھی نہیں رہتا۔
7
ये तुम्हारे ही दम से है बज़्म-ए-तरब अभी जाओ न तुम न करो ये ग़ज़ब
कोई बैठ के लुत्फ़ उठाएगा क्या कि जो रौनक़-ए-बज़्म तुम्हीं न रहे
یہ تمہارے ہی دم سے ہے بزم طرب ابھی جاؤ نہ تم نہ کرو یہ غضب
کوئی بیٹھ کے لطف اٹھائے گا کیا کہ جو رونق بزم تمہیں نہ رہے
یہ خوشی کی محفل صرف تمہارے دم سے قائم ہے، اس لیے ابھی مت جاؤ اور یہ ظلم نہ کرو۔ جب محفل کی رونق یعنی تم ہی نہیں رہو گے، تو یہاں بیٹھ کر کوئی کیا لطف اٹھائے گا؟
8
जो थीं चश्म-ए-फ़लक की भी नूर-ए-नज़र वही जिन पे निसार थे शम्स ओ क़मर
सो अब ऐसी मिटी हैं वो अंजुमनें कि निशान भी उन के कहीं न रहे
جو تھیں چشم فلک کی بھی نور نظر وہی جن پہ نثار تھے شمس و قمر
سو اب ایسی مٹی ہیں وہ انجمنیں کہ نشان بھی ان کے کہیں نہ رہے
وہ محفلیں جو کبھی آسمان کی آنکھ کا نور تھیں اور جن پر چاند اور سورج نثار ہوتے تھے، اب اس طرح مٹ چکی ہیں کہ ان کا کوئی نشان بھی باقی نہیں رہا۔
9
वही सूरतें रह गईं पेश-ए-नज़र जो ज़माने को फेरें इधर से उधर
मगर ऐसे जमाल-ए-जहाँ-आरा जो थे रौनक़-ए-रू-ए-ज़मीं न रहे
وہی صورتیں رہ گئیں پیش نظر جو زمانہ کو پھیریں ادھر سے ادھر
مگر ایسے جمال جہاں آرا جو تھے رونق روئے زمیں نہ رہے
اب نظروں کے سامنے صرف وہی چہرے رہ گئے ہیں جو زمانے کو الٹ پلٹ کرتے ہیں، جبکہ وہ جہاں کو سنوارنے والے خوبصورت لوگ جو روئے زمین کی رونق تھے اب باقی نہیں رہے۔
10
ग़म ओ रंज में 'अकबर' अगर है घिरा तो समझ ले कि रंज को भी है फ़ना
किसी शय को नहीं है जहाँ में बक़ा वो ज़ियादा मलूल ओ हज़ीं न रहे
غم و رنج میں اکبرؔ اگر ہے گھرا تو سمجھ لے کہ رنج کو بھی ہے فنا
کسی شے کو نہیں ہے جہاں میں بقا وہ زیادہ ملول و حزیں نہ رہے
اگر اکبر غم اور دکھ میں گھرا ہوا ہے تو سمجھ لے کہ غم کو بھی ختم ہونا ہے۔ اس دنیا میں کسی چیز کو ہمیشگی حاصل نہیں ہے، اس لیے اسے زیادہ اداس اور رنجیدہ نہیں رہنا چاہیے۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
