“If Akbar is besieged by sorrow and grief, know that even sorrow must meet its end; Nothing in this world possesses permanence, so let him not remain so deeply grieved.”
اگر اکبر غم اور دکھ میں گھرا ہوا ہے تو سمجھ لے کہ غم کو بھی ختم ہونا ہے۔ اس دنیا میں کسی چیز کو ہمیشگی حاصل نہیں ہے، اس لیے اسے زیادہ اداس اور رنجیدہ نہیں رہنا چاہیے۔
اکبرؔ یہاں ایک ہمدرد دوست کی طرح زندگی کی سب سے بڑی حقیقت یاد دلا رہے ہیں کہ اس دنیا میں کسی بھی چیز کو دوام حاصل نہیں۔ اگر خوشی اور مسرت کے پل گزر جاتے ہیں، تو پھر غم اور دکھ کو بھی ایک دن فنا ہونا ہی ہے۔ اسی لیے وہ دل کو تسلی دیتے ہیں کہ مصیبت کے ان عارضی اندھیروں سے گھبرا کر زیادہ اداس نہ ہو، کیونکہ وقت کی یہ سیاہ رات بھی بالآخر ڈھل جائے گی۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
