جو تھیں چشم فلک کی بھی نور نظر وہی جن پہ نثار تھے شمس و قمر سو اب ایسی مٹی ہیں وہ انجمنیں کہ نشان بھی ان کے کہیں نہ رہے

“Those gatherings, once the very light of heaven's eye, for which the sun and moon sacrificed their splendor, have now been erased so utterly that not a trace of them remains.”

— اکبر الہ آبادی
معنی

وہ محفلیں جو کبھی آسمان کی آنکھ کا نور تھیں اور جن پر چاند اور سورج نثار ہوتے تھے، اب اس طرح مٹ چکی ہیں کہ ان کا کوئی نشان بھی باقی نہیں رہا۔

تشریح

یہ شعر وقت کے بے رحم گزرنے اور ماضی کی شان و شوکت کے زوال کا نہایت درد انگیز مرقع ہے۔ وہ بزمیں جو کبھی اس قدر پُررونق تھیں کہ آسمان بھی ان پر ناز کرتا تھا اور سورج و چاند اپنی تابناکی ان پر نچھاور کرتے تھے، گردشِ زمانہ نے انہیں یوں مٹا دیا کہ اب ان کا نام و نشان تک باقی نہیں رہا۔ شاعر بڑے پیارے اور پُراثر انداز میں انسانی عظمت کی ناپائیداری کا احساس دلاتا ہے کہ کیسی کیسی روشن محفلیں بالآخر خاموشی اور فنا کے سپرد ہو جاتی ہیں۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.