نہ وہ جام رہے نہ وہ مست رہے نہ فدائی عہد الست رہے وہ طریقۂ کار جہاں نہ رہا وہ مشاغل رونق دیں نہ رہے

“Neither those wine-cups remain, nor those enraptured souls of the past, nor those faithful to the primordial covenant of 'Alast'; that ancient way of worldly affairs has ceased to be, nor do those noble pursuits survive that gave faith its vibrant majesty.”

— اکبر الہ آبادی
معنی

اب نہ وہ شراب کے پیالے رہے اور نہ وہ مست لوگ، اور نہ ہی عہدِ الست پر جان قربان کرنے والے باقی رہے؛ نہ دنیا کے کام کاج کا وہ طریقہ رہا اور نہ ہی دین کی رونق بڑھانے والی وہ سرگرمیاں باقی رہیں۔

تشریح

اس شعر میں شاعر ماضی کے اس پُروقار اور روحانی عہد کی یاد میں گہری اداسی کا اظہار کر رہا ہے جو اب رفتہ رفتہ رخصت ہو چکا ہے۔ جام و مست اور عہدِ الست کے استعاروں سے مراد وہ باوفا اور سچے اہل دل ہیں جن کا خلوص، عشق اور کردار ہی معاشرے کا اصل وقار تھا۔ شاعر دراصل اس تہذیبی اور روحانی زوال کا پُردرد نوحہ پڑھ رہا ہے جس نے زندگی اور دین دونوں کی حقیقی رونق کو ماند کر دیا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.