“This assembly of joy breathes only through you; do not leave just yet, spare us this cruel blow! What pleasure could anyone linger to find, when the radiant light of the gathering is gone?”
یہ خوشی کی محفل صرف تمہارے دم سے قائم ہے، اس لیے ابھی مت جاؤ اور یہ ظلم نہ کرو۔ جب محفل کی رونق یعنی تم ہی نہیں رہو گے، تو یہاں بیٹھ کر کوئی کیا لطف اٹھائے گا؟
اس شعر میں شاعر اپنے محبوب سے بڑی دل نشین التجائیہ کیفیت میں رخصت نہ ہونے کی گزارش کر رہا ہے۔ وہ واضح کرتا ہے کہ اس بزم کی ساری شادمانی اور رونق صرف محبوب کے دم قدم سے ہے، اور اس کے چلے جانے کے بعد محفل بالکل بے رنگ اور ویران ہو جائے گی۔ یہ محبوب کو پوری محفل کی روح اور جان ماننے کا دلکش انداز ہے، جہاں اس کے بنا خوشی کا ہر لمحہ ادھورا لگتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
