“Gone is that breeze, gone is that garden, gone is that lane and those fair ones of old; gone is that sky, gone is that era, gone are those dwellings and the dwellers they hold.”
نہ وہ ہوا رہی، نہ وہ باغ رہا، نہ وہ گلی رہی اور نہ وہ خوبصورت لوگ رہے؛ نہ وہ آسمان رہا، نہ وہ سماں رہا، نہ وہ گھر رہے اور نہ ان میں رہنے والے رہے۔
یہ شعر بیتے ہوئے خوبصورت دنوں اور ایک پورے عہد کے زوال کا دل گداز نوحہ ہے۔ شاعر ایک ایک کر کے ماضی کی ان تمام رعنائیوں کو یاد کرتا ہے—چمن کی خوشگوار ہوا، محبوب کی گلی، وہ حسین لوگ اور وہ گھر جنہیں ان کی ہنسی نے آباد کر رکھا تھا، جو سب اب وقت کی دھول میں گم ہو چکے ہیں۔ دراصل یہ صرف مکانات کی ویرانی کا دکھ نہیں، بلکہ ایک مکمل تہذیب، تعلق اور سنہرے دور کے رخصت ہو جانے کا لافانی ملال ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
