“Only those faces linger before the sight that toss the world in disarray, yet those world-adorning beauties, the very splendor of the earth, have passed away.”
اب نظروں کے سامنے صرف وہی چہرے رہ گئے ہیں جو زمانے کو الٹ پلٹ کرتے ہیں، جبکہ وہ جہاں کو سنوارنے والے خوبصورت لوگ جو روئے زمین کی رونق تھے اب باقی نہیں رہے۔
اس شعر میں زمانے کے حسن و وقار کے کھو جانے پر ایک دل گداز نوحہ ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ اب نظروں کے سامنے صرف وہی ہنگامہ پرور چہرے باقی رہ گئے ہیں جو دنیا کو الٹ پلٹ کر انتشار پھیلاتے ہیں۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ وہ باوقار اور جہاں آرا ہستیاں، جن کے دم قدم سے اس روئے زمین پر رونق تھی، اب رخصت ہو چکی ہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
