“No longer does the roses' fragrance dwell within the rose, nor does that tenderness remain in those we hold dear; The hue of faithful love has faded from the fair—why speak of others, when we ourselves are no longer who we were?”
اب پھولوں میں پھولوں جیسی خوشبو نہیں رہی، پیاروں میں مہربانی کی عادت باقی نہیں رہی اور حسینوں میں وفا کا رنگ نہیں رہا؛ دوسروں کی کیا بات کریں، اب ہم خود بھی ویسے نہیں رہے۔
یہ شعر وقت کے ساتھ بدلتی دنیا اور رشتوں کے زوال پر ایک دل سوز نوحہ ہے۔ شاعر دیکھتا ہے کہ نہ پھولوں میں وہ اصل مہک رہی، نہ اپنوں میں وہ خلوص، اور نہ ہی محبوب میں وفا کا رنگ باقی بچا۔ مگر شعر کا اصل حسن اور المیہ اس اعتراف میں ہے کہ دوسروں کا گلہ کیا کریں، زمانے کی گرد نے خود ہمیں بھی تو پہلے جیسا نہیں رہنے دیا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
