“Neither that pride nor passion remains, nor the strife between piety and wine; no longer do eyes turn toward the holy shrine, nor bows the brow at love's threshold.”
اب نہ وہ وقار اور جوش باقی رہا اور نہ ہی رندی و پرہیزگاری کا جھگڑا؛ نہ نگاہیں قبلے کی طرف رخ کرتی ہیں اور نہ محبوب کے در پر سجدہ ریز پیشانی کے نشان باقی ہیں۔
یہ شعر مکمل لاتعلقی اور دل کے اندرونی سناٹے کی ایک پُردرد تصویر کشی کرتا ہے۔ کبھی زندگی گناہ و ثواب اور عشق و پارسائی کی کشمکش اور ولولے سے آباد تھی، مگر اب وہ سارا جوش و خروش مدہم پڑ چکا ہے۔ نوبت یہاں تک آ پہنچی ہے کہ نہ تو عبادت کے لیے قبلے کی سمت رخ کرنے کا اشتیاق باقی ہے، اور نہ ہی محبوب کی دہلیز پر سر جھکانے کی آرزو۔ یہ انسان کی اس کیفیت کا بیان ہے جہاں وہ خدا اور صنم، دونوں کے تقاضوں سے تھک کر بےنیاز ہو جاتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
