ترے کوچۂ زلف میں دل ہے مرا اب اسے میں سمجھتا ہوں دام بلا یہ عجیب ستم ہے عجیب جفا کہ یہاں نہ رہے تو کہیں نہ رہے

“My heart wanders the street of your tresses, which I now know as calamity's snare; What strange cruelty, what curious torment—if it abides not here, it exists nowhere.”

— اکبر الہ آبادی
معنی

میرا دل تمہاری زلفوں کی گلی میں پھنسا ہے جسے اب میں مصیبت کا جال سمجھتا ہوں۔ یہ کیسا عجیب ستم ہے کہ اگر دل یہاں نہ رہے تو پھر کہیں اور رہنے کے قابل بھی نہیں رہتا۔

تشریح

شاعر نے محبوب کی زلفوں کے پیچ و خم کو ایک پُرپیچ گلی اور مصیبت کے جال سے تشبیہ دی ہے جس میں دل جا کر اسیر ہو چکا ہے۔ عشق کا سب سے انوکھا ستم یہی ہے کہ دل جانتا ہے یہاں صرف بلا اور تڑپ ہے، مگر وہ اس سے دامن چھڑا بھی نہیں سکتا۔ اگر دل اس قید سے نکل جائے تو اس کا وجود ہی ختم ہو جائے گا، کیونکہ اس پناہ گاہ کے سوا اب دنیا میں اس کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.