“Though the world tempts us ten thousand ways, or the turning heavens display ever-new hues / It is impossible for the faithful to ever lose grief for their people, or devotion to their faith.”
زمانہ ہمیں خواہ کتنا ہی لبھائے یا گردشِ وقت کتنے ہی نئے رنگ دکھائے، باوفا لوگوں کے لیے یہ ناممکن ہے کہ ان کے دل سے قوم کا غم اور دین کی محبت مٹ جائے۔
شاعر اس شعر میں ایک اٹوٹ وفاداری اور اخلاقی پختگی کا اظہار کر رہے ہیں جسے دنیا کی کوئی بھی چکا چوند مدہم نہیں کر سکتی۔ زمانہ چاہے کتنی ہی دلکشیاں سامنے لائے یا گردشِ ایام کتنے ہی نئے رنگ دکھائے، باوفا اور خوددار دل کبھی اپنی قوم کے درد اور اپنے دین کی محبت سے غافل نہیں ہو سکتا۔ یہ شعر دراصل انسان کو اپنی اصل، اپنی بنیادی قدروں اور اجتماعی شعور کے ساتھ مخلص رہنے کا ایک خوبصورت احساس دلاتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
