غزل
تجھ لب کی صفت لعل بدخشاں سوں کہوں گا
تجھ لب کی صفت لعل بدخشاں سوں کہوں گا
یہ غزل محبوب کے بے مثال حسن و جمال کی والہانہ مدح پر مبنی ہے، جس میں اس کے لبوں اور جادوئی آنکھوں کو لعلِ بدخشاں اور ہرنوں سے تشبیہ دی گئی ہے۔ شاعر محبوب کو حسن کے نگر کا حقیقی فرمانروا تسلیم کرتے ہوئے اپنی دلی عقیدت اور محبت کا اظہار کرتا ہے۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
1
तुझ लब की सिफ़त लाल-ए-बदख़्शाँ सूँ कहूँगा
जादू हैं तिरे नैन ग़ज़ालाँ सूँ कहूँगा
تجھ لب کی صفت لعل بدخشاں سوں کہوں گا
جادو ہیں ترے نین غزالاں سوں کہوں گا
میں تمہارے ہونٹوں کی خوبی بدخشاں کے لعل سے بیان کروں گا، اور ہرنوں سے کہوں گا کہ تمہاری آنکھیں جادو ہیں۔
2
दी बादशही हक़ ने तुझे हुस्न-नगर की
यू किश्वर-ए-ईराँ में सुलैमाँ सूँ कहूँगा
دی بادشہی حق نے تجھے حسن نگر کی
یو کشور ایراں میں سلیماں سوں کہوں گا
خدا نے تمہیں حسن کے نگر کی بادشاہی عطا کی ہے، اور یہ بات میں ملکِ ایران میں جا کر حضرت سلیمان سے بھی کہوں گا۔
3
तारीफ़ तिरे क़द की अलिफ़-वार सिरीजन
जा सर्व-ए-गुलिस्ताँ कूँ ख़ुश-अल्हाँ सूँ कहूँगा
تعریف ترے قد کی الف وار سریجن
جا سرو گلستاں کوں خوش الحاں سوں کہوں گا
اے محبوب، میں باغ کے سرو کے پاس جا کر سُریلی آواز میں تمہارے الف جیسے سیدھے قد کی تعریف کروں گا۔
4
मुझ पर न करो ज़ुल्म तुम ऐ लैली-ए-ख़ूबाँ
मजनूँ हूँ तिरे ग़म कूँ बयाबाँ सूँ कहूँगा
مجھ پر نہ کرو ظلم تم اے لیلی خوباں
مجنوں ہوں ترے غم کوں بیاباں سوں کہوں گا
اے حسینوں کی لیلیٰ، مجھ پر ظلم نہ کرو۔ میں مجنوں ہوں اور تمہارے دیے ہوئے غم کی کہانی بیابان (ویرانے) سے کہوں گا۔
5
देखा हूँ तुझे ख़्वाब में ऐ माया-ए-ख़ूबी
इस ख़्वाब को जा यूसुफ़-ए-कनआँ सूँ कहूँगा
دیکھا ہوں تجھے خواب میں اے مایۂ خوبی
اس خواب کو جا یوسف کنعاں سوں کہوں گا
اے حسن و خوبی کے پیکر، میں نے تمہیں خواب میں دیکھا ہے؛ اب میں جا کر یہ خواب یوسفِ کنعان سے بیان کروں گا۔
6
जलता हूँ शब-ओ-रोज़ तिरे ग़म में ऐ साजन
ये सोज़ तिरा मशअल-ए-सोज़ाँ सूँ कहूँगा
جلتا ہوں شب و روز ترے غم میں اے ساجن
یہ سوز ترا مشعل سوزاں سوں کہوں گا
اے محبوب، میں تیرے غم میں رات دن جلتا ہوں۔ میں تیری اس جلن اور تپش کا حال جلتی ہوئی مشعل سے بیان کروں گا۔
7
यक नुक़्ता तिरे सफ़्हा-ए-रुख़ पर नईं बेजा
इस मुख को तिरे सफ़्हा-ए-क़ुरआँ सूँ कहूँगा
یک نقطہ ترے صفحۂ رخ پر نئیں بے جا
اس مکھ کو ترے صفحۂ قرآں سوں کہوں گا
تمہارے چہرے کے ورق پر یہ ایک تل (نقطہ) بے جا نہیں ہے؛ میں تمہارے اس چہرے کو قرآن مجید کے صفحے سے تشبیہ دوں گا۔
8
क़ुर्बान परी मुख पे हुई चोब सी जल कर
ये बात अजाइब मह-ए-ताबाँ सूँ कहूँगा
قربان پری مکھ پہ ہوئی چوب سی جل کر
یہ بات عجائب مہ تاباں سوں کہوں گا
اس پری جیسے چہرے پر میں لکڑی کی طرح جل کر قربان ہو گیا؛ یہ انوکھی بات میں چمکتے ہوئے چاند سے کہوں گا۔
9
बे-सब्र न हो ऐ 'वली' इस दर्द सूँ हरगिज़
जलता हूँ तिरे दर्द में दरमाँ सूँ कहूँगा
بے صبر نہ ہو اے ولیؔ اس درد سوں ہرگز
جلتا ہوں ترے درد میں درماں سوں کہوں گا
اے ولی، اس درد سے بالکل بھی بے صبر نہ ہو۔ میں تمہارے درد میں جل رہا ہوں اور اس کا ماجرا اس کے علاج سے بیان کروں گا۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
