تجھ لب کی صفت لعل بدخشاں سوں کہوں گا — ولی دکنی

تجھ لب کی صفت لعل بدخشاں سوں کہوں گا جادو ہیں ترے نین غزالاں سوں کہوں گا

“I shall speak of your lips' ruby splendour to Badakhshan's jewel, and tell the wild gazelles of the enchantments cast by your eyes.”

— ولی دکنی

معنی

میں تمہارے ہونٹوں کی خوبی بدخشاں کے لعل سے بیان کروں گا، اور ہرنوں سے کہوں گا کہ تمہاری آنکھیں جادو ہیں۔

تشریح

اس دلکش شعر میں ولی دکنی اپنے محبوب کے حسن پر ناز کرتے ہوئے فطرت کی سب سے خوبصورت چیزوں کو چیلنج کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ محبوب کے سرخ اور نازک لبوں کی تعریف وہ بدخشاں کے نایاب لعل کے سامنے کریں گے تاکہ وہ بھی رشک کرے، اور صحرا کے غزالوں کو بتائیں گے کہ ان کی خوبصورت آنکھوں سے کہیں زیادہ جادو تو محبوب کے نینوں میں ہے۔ یہ عشق کا وہ پیارا انداز ہے جہاں محبوب کی دلکشی کے آگے کائنات کا ہر حسن ماند پڑ جاتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.