غزل
ہم ہین اور سایہ ترے کوچہ کی دیوارون کا
ہم ہین اور سایہ ترے کوچہ کی دیوارون کا
Source: Deewan-e-Zauq (1923) · HI
نغمہ سنیں
1
हम हैं और साया तिरे कूचे की दीवारों का
काम जन्नत में है क्या ऐसे गुनहगारों का
ہم ہین اور سایہ ترے کوچہ کی دیوارون کا
کام جنت مین ہے کیا ایسے گنہگارون کا
ہم ہیں اور تیری گلی کی دیواروں کا سایہ؛ ہم جیسے گنہگاروں کا جنت میں بھلا کیا کام ہے۔
2
मुहतसिब गरचा दिल-आज़ार है मयख़्वारों का
देके इक जाम तो बे-यारा भी यारों का
محتسب گرچہ دل آزار ہے میخوارون کا
دیکے اک جام تو بے یارا بھی یارون کا
اگرچہ محتسب شراب پینے والوں کا دل دُکھانے والا ہے، پھر بھی اُسے ایک جام پلا دو تو وہ بھی بے سہاروں اور یاروں کا یار بن جاتا ہے۔
3
उतना तो सोज़-ए-फ़ुग़ाँ हो कि चमन में बुलबुल
ख़िर्मन-ए-गुल की जगह ढेर हो अंगारों का
اُتنا تو سوز فغان ہو کہ چمن مین بلبل
خرمن گل کی جگہ ڈھیر ہو انگارون کا
میری فریاد کی آگ اتنی تیز ہو کہ باغ میں، جہاں بلبل گاتی ہے، پھولوں کے انبار کی جگہ جلتے انگاروں کا ڈھیر لگ جائے۔
4
चर्ख़ पर बैठ रहा जान बचा कर ईसा
हो सका जब न मुदावा तिरे बीमारों का
چرخ پر بیٹھ رہا جان بچا کر عیسیٰ
ہو سکا جب نہ مداوا ترے بیمارون کا
عیسیٰ اپنی جان بچا کر آسمان پر جا بیٹھا، جب وہ تیرے بیماروں (عشق میں گھائل لوگوں) کا علاج نہ کر سکا۔
5
हों रगें हल्क़-ए-बुरीदा की हमारे ख़ूँबार
गर तमाशा तुझे मंज़ूर हो फ़व्वारों का
ہون رگین حلق بریدہ کی ہمارے خونبار
گر تماشہ تجھے منظور ہو فوارون کا
اگر تمہیں فواروں کا تماشا دیکھنا منظور ہو تو میرے کٹے ہوئے گلے کی رگیں خون برساتی ہوئی فوارے بن جائیں۔
6
हैं कमांदार तिरे तीर-ए-मिज़ा तश्ना-ए-ख़ूँ
मुँह खुला रहता है इस-वास्ते सूफ़ारों का
ہین کماندار ترے تیر مژہ تشنۂ خون
منھ کھلا رہتا ہے اسواسطے سوفارون کا
تمہاری پلکوں کے تیر خون کے پیاسے سپہ سالار ہیں؛ اسی وجہ سے تیروں کے سوفار (پچھلے سرے) کا منھ کھلا رہتا ہے۔
7
क्यों न हर तार में सौ दिल हों गिरफ़्तार कि ज़ुल्फ़
जेल-ख़ाना है मोहब्बत के गिरफ़्तारों का
کیون نہ ہر تار مین سو دل ہون گرفتار کہ زلف
جیلخانہ ہے محبت کے گرفتارون کا
ہر تار میں سو دل کیوں نہ قید ہوں، کیونکہ یہ زلف تو محبت کے گرفتاروں کا جیلخانہ ہے۔
8
देंगे जान बोसा-ए-लाल-ए-नमकीन पर हम भी
जान-निसारी है अगर शेवा नमक-ख़्वारों का
دینگے جان بوسۂ لعل نمکین پر ہم بھی
جان نثاری ہے اگر شیوہ نمکخوارون کا
ہم بھی اُن نمکین لبوں کے ایک بوسے پر اپنی جان دے دیں گے، اگر جان نثار کرنا اُن لوگوں کا دستور ہے جنہوں نے کسی کا نمک کھایا ہو۔
9
बे-सबब ही जफ़ा का ज़ुल्म का ऐ ज़ौक़
दिया ही उस ने दिया नाम यार ने रोना
بے سبب ہی جفا کا ظلم کا اے ذوق
دیا ہی اس نے دیا نام یار نے رونا
بغیر کسی سبب کے، اے ذوق، جفا اور ظلم کر کے میرے یار نے مجھے صرف رونا ہی دیا۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
