ہین کماندار ترے تیر مژہ تشنۂ خون — شیخ ابراہیم ذوق

ہین کماندار ترے تیر مژہ تشنۂ خون منھ کھلا رہتا ہے اسواسطے سوفارون کا

“Commanders are the arrows of your lashes, athirst for blood— that is why the notches of the shafts keep their mouths agape.”

— شیخ ابراہیم ذوق

معنی

تمہاری پلکوں کے تیر خون کے پیاسے سپہ سالار ہیں؛ اسی وجہ سے تیروں کے سوفار (پچھلے سرے) کا منھ کھلا رہتا ہے۔

تشریح

اس شعر میں شاعر محبوب کی پلکوں کو تیر کہہ رہا ہے — اور یہ تیر معمولی نہیں بلکہ کماندار ہیں، جو خون کے پیاسے ہیں۔ سب سے لطیف بات سوفار (تیر کا وہ کٹا ہوا پچھلا حصہ جو کمان کی ڈوری پر ٹکتا ہے) کا ذکر ہے — شاعر کہتا ہے کہ ان تیروں کا منھ اس لیے کھلا رہتا ہے کیونکہ وہ خون کی پیاس میں ہانپ رہے ہیں۔ یعنی محبوب کی نظر اتنی قاتل ہے کہ اس کی پلکوں کے تیر بھی پیاسے درندوں کی طرح منھ کھولے بیٹھے ہیں۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.