ہون رگین حلق بریدہ کی ہمارے خونبار — شیخ ابراہیم ذوق
“Let the severed veins of my slit throat spill their crimson spray, if the sight of fountains gushing be your pleasure's wish today.”
معنی
اگر تمہیں فواروں کا تماشا دیکھنا منظور ہو تو میرے کٹے ہوئے گلے کی رگیں خون برساتی ہوئی فوارے بن جائیں۔
تشریح
اس شعر میں عاشق کی محبت اپنی انتہا کو چھو رہی ہے — اگر محبوب کو فواروں کا نظارہ پسند ہے تو وہ اپنا گلا کٹوا کر اپنی بریدہ رگوں سے خون کے فوارے چھوڑنے کو تیار ہے۔ شاعر کٹے ہوئے گلے کی ہولناک تصویر کو فوارے کے حسن سے جوڑ کر ایک عجیب نازک خوبصورتی پیدا کر دیتا ہے۔ یہ عشق کی اُس معراج کی بات ہے جہاں اپنی جان دینا بھی محبوب کی خوشی کے سامنے معمولی لگتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
