دینگے جان بوسۂ لعل نمکین پر ہم بھی — شیخ ابراہیم ذوق
“I too shall lay down my life for a kiss of those salt-sweet lips— If casting away one's life is the way of those who have eaten another's salt.”
معنی
ہم بھی اُن نمکین لبوں کے ایک بوسے پر اپنی جان دے دیں گے، اگر جان نثار کرنا اُن لوگوں کا دستور ہے جنہوں نے کسی کا نمک کھایا ہو۔
تشریح
اس شعر میں شاعر محبوب کے 'نمکین' لعل جیسے ہونٹوں کا ذکر کرتا ہے، جہاں 'نمک' کا دوہرا مطلب چھپا ہے — ایک ہونٹوں کی دلکش شیرینی اور دوسرا 'نمک خواری' یعنی کسی کا نمک کھا کر اس کا وفادار ہو جانا۔ شاعر کہتا ہے کہ اگر جان نثار کرنا اُن لوگوں کی ریت ہے جنہوں نے کسی کا نمک کھایا ہو، تو وہ بھی اُن سرخ ہونٹوں کے ایک بوسے پر اپنی جان قربان کر دے گا۔ اس خوبصورت لفظی کھیل سے شاعر عشق کو ایک مقدس قرض اور وفاداری کو اس کا حسین صلہ بنا دیتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
