کیون نہ ہر تار مین سو دل ہون گرفتار کہ زلف — شیخ ابراہیم ذوق
“Why should a hundred hearts not lie ensnared in every strand, for these dark tresses are a prison-house for love's own captives bound.”
معنی
ہر تار میں سو دل کیوں نہ قید ہوں، کیونکہ یہ زلف تو محبت کے گرفتاروں کا جیلخانہ ہے۔
تشریح
اس شعر میں شاعر محبوب کی زلفوں کو ایک جیلخانے کی صورت میں دیکھتا ہے، جہاں ہر پیچ دار لٹ قید خانے کی سلاخوں جیسی بن جاتی ہے۔ ہر تار میں سو سو دل گرفتار ہیں یعنی عشق کرنے والوں کے بے شمار دل ان زلفوں کے اسیر ہو چکے ہیں۔ گہرائی میں یہ بات ہے کہ حسن کی کشش ایسی ہے کہ یہ گرفتاری خود ایک میٹھی سزا ہے، جسے عاشق خوشی سے قبول کرتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
