اُتنا تو سوز فغان ہو کہ چمن مین بلبل — شیخ ابراہیم ذوق

اُتنا تو سوز فغان ہو کہ چمن مین بلبل خرمن گل کی جگہ ڈھیر ہو انگارون کا

“Let the fire of my lament burn so fierce that in the garden, where the nightingale sings, In place of the harvest of roses there lies but a heap of glowing embers.”

— شیخ ابراہیم ذوق

معنی

میری فریاد کی آگ اتنی تیز ہو کہ باغ میں، جہاں بلبل گاتی ہے، پھولوں کے انبار کی جگہ جلتے انگاروں کا ڈھیر لگ جائے۔

تشریح

شاعر چاہتا ہے کہ اُس کی آہ و فغاں میں ایسا سوز اور تپش ہو کہ چمن میں بلبل کے نالے بھی اتنے جلتے ہوئے نکلیں کہ پھولوں کے خرمن کی جگہ انگاروں کا ڈھیر دکھائی دے۔ یہاں بلبل اور گلشن عشق اور اُس کے درد کی علامتیں ہیں، اور گل کی جگہ انگارے یعنی حُسن و نزاکت کی جگہ جلن اور فراق۔ گہرے معنوں میں یہ عشق کی اُس شدت کا بیان ہے جو خوبصورتی کو بھی اپنی آگ میں پگھلا دے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.